اسمہ احمد - الفضل (7 اکتوبر 1941

 اخبار پیغام صلح میں "ینگ مینز احمدیہ ایسوسی ایشن" کے ایک جلسہ کی کاروائی درج کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ ایک غیر مبایع طالب علم نے اسمه احمد کی پیشگوئی کے حقیقی مصداق پر تقریر کی۔ اور اس نے بدلائل ثابت کیا کہ :- 

" بعض لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ اس کے مصداق حضرت مرزا صاحب مجدد زمان تھے٫ غلط ہے۔"

اس پیشگوئی پر چونکہ بارہا بحث ہو چکی ہے۔ اس لئے ہم غیر مبایعین کے اس نظریہ کے رد میں تفصیلی مباحث سے قطع نظر کرتے ہوئے انہی کے ایک رکن میر مدثر شاہ صاحب کا ایک حوالہ اس لئے پیش کرتے ہیں ۔ کہ وہ اس پر غور کریں۔ کہ ان کا موجودہ عقیدہ کہاں تک درست ہے۔ میر مدثر شاہ صاحب نے اس حوالہ میں جو کچھ لکھا ہے ۔ وہ مبایعین و غیر مبایعین کے موجودہ نزاع سے بہت پہلے کی بات ہے۔ بلکہ اُس زمانہ کی بات ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ تھے۔ جماعت میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ اور سچائی بے ساختگی کے ساتھ ان کی زبان قلم پر جاری ہو گئی تھی۔ اگر یہ عقیدہ غلط ہوتا ۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس پیشگوئی کا مصداق قرار دینا نعوذ باللہ نا جائز ہوتا تو کس طرح ممکن تھا ۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا سلسلہ کے بزرگان میں سے کسی اور بزرگ کی طرف سے اس کی تردید نہ ہوتی ۔ اور یہ اعلان نہ کیا جاتا ۔ کہ اسمه احمد کی پیشگوئی کے مصداق کے متعلق میر مدثر شاہ صاحب کی طرف سے جو کچھ لکھا گیا ہے ۔ وہ غلط ہے. پس اس عقیدہ کے غلط ہونے کی صورت میں ضرور اس کی تردید ہوتی مگر چونکہ کسی نے اس کی تردید نہیں کی ۔ اس لئے مانتا پڑتا ہے۔ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام

کی زندگی میں یہی سمجھا جاتا تھا۔ کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ واسلام ہی ہیں۔ بہر حال وہ حوالہ حسب ذیل ہے۔

میر مدثر شاہ صاحب ایک شخص کے جواب میں لکھتے ہیں:۔

 قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ ھو الذي ارسل رسوله بالهدی و دين الحق ليظهرہ علے الدين كلہ ۔ اس آیت کو مفسرین نے حضرت مسیح موعود کے حق میں تسلیم کیا ہے۔ اور اس رسول سے مراد وہی رسول ہے، جو اس سے پہلے آیت مبشرا برسُول یا تی من بعدى اسمہ احمد میں مذکور ہے۔ پس ان دونوں آیتوں کو ملانے سے ثابت ہوا کہ مسیح موعود کا نام احمد ہے جس کے مصداق آج جناب مرزا صاحب ہوئے۔ اگر کسی کے دل میں یہ وہم گزرے کہ پہلی آیت مبشراً برسول يأتى من بعدى اسمه احمد آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں ہے۔ تو ہم کہتے ہیں دل ما شاد و چشم ما روشن۔

مشکواۃ شریف میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنھہ سے روایت ہے ۔ انزل القرآن علی سبعة احرف لكل اية ظهر وبطن (کتاب العلم ص 27 )۔

پس قرآن شریف کے رُو سے اس احمد سے کئی احمد مراد ہوں۔ تو ہمارا کیا حرج - حضرت مسیح علیہ سلام نے آیت مبشراً برسول میں اپنے مثیل کی بشارت دی ہے۔ اور اس کا نام احمد بتایا ہے۔ جب وہ احمد ہوا ۔ تو خدا تعالیٰ نے بھی اس کو احمد کے نام سے پکارا۔ دیکھو رسائل اربعہ (یا احمد فاضت الرحمة على شفتيک ص 52, 55, 58)

آخر میں لکھتے ہیں : اب وقت مسیح موعود اور مقام اور نام تینوں ہی قرآن شریف سے ثابت ہو گئے ہیں۔ اب

کوئی شخص مسلمان کہلا کر جناب مرزا صاحب کے دعویٰ مسیحیت سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا ۔ یہی حق ہے۔ فماذا بعد الحق الا الضلال (الحکم 31 اگست تا ستمبر 1904) بہ حوالہ کسی تشریح کا محتاج نہیں ۔ غیر مبایعین کو چاہیئے کہ اس پر غور کریں ۔ اور اسمہ احمد کی پیشگوئی کے صحیح مصداق کے متعلق اپنے موجودہ خیالات کی اصلاح

کریں۔

اخبار الفضل مورخہ 7 اکتوبر1941، جلد 29 نمبر 229 صفحہ 3








Comments